واشنگٹن: امریکہ میں ہونے والے وائٹ ہاؤس کے وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات کے حتمی اور ابتدائی نتائج نے امریکی سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔ تازہ ترین انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کر لی ہے، جو موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔
امریکہ کی کانگریس کے اس انتخاب میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر مقابلے ہوئے۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ریپبلکن پارٹی، جو اب تک اس ایوان میں معمولی برتری کے ساتھ قابض تھی، ووٹرز کی جانب سے مہنگائی، روزمرہ کے اخراجات میں اضافے اور دیگر ملکی پالیسیوں پر عدم اطمینان کے باعث اپنی نشستیں کاٹنے سے نہ بچ سکی۔ ڈیموکریٹس نے حکمت عملی کے تحت کئی اہم نشستوں پر کامیابی سمیٹی اور کچھ اہم ریاستوں میں ریپبلکنز سے سیٹیں چھین لیں۔
امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 12 نشستوں پر برتری کے بعد تعداد 46 ہوگئی جب کہ ریپبلکنز کو 6 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی جس کے بعد سینیٹ میں ریپبلکنز ارکان کی تعداد 37 ہوگئی۔
امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کیلئے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہیں۔
یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ دورِ اقتدار پر ایک اہم ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت آنے سے آنے والے دو سالوں میں صدر ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانا، نئے بل منظور کروانا اور اہم بجتی فیصلوں پر عمل درآمد کرنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ ماضی میں ٹرمپ یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ اگر کانگریس میں مخالف جماعت کی برتری ہوئی تو وہ اپنے صدارتی اختیارات (ویٹو پاور) کا کھل کر استعمال کریں گے۔
اس انتخابی نتائج کے بعد واشنگٹن میں سیاسی رسہ کشی میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ جہاں ایک طرف ڈیموکریٹک پارٹی اس کامیابی کے بعد ایوان میں قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں کی کڑی نگرانی کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہے، وہیں ریپبلکنز کے لیے پالیسی سازی کے محاذ پر دفاعی حکمت عملی اپنانا مجبوری بن گیا ہے۔

