عالمی توانائی کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں آئل ٹینکرز کو مبینہ طور پر بارودی سرنگوں (مائنز) کا نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کے نرخوں میں نمایاں اور اچانک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات اور سپلائی کے شدید تعطل کے خطرات کے پیشِ نظر سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی یہ آبنائے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا سب سے حساس اور اہم کوریڈور مانی جاتی ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں کو روانہ ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ پر سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہونے سے عالمی توانائی کی سپلائی چین براہِ راست متاثر ہوئی ہے۔برینٹ خام تیل کے دسمبر کے سودوں کی قیمت میں 1.20 ڈالر یعنی 1.04 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 116.08 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 1.37 ڈالر یعنی 1.34 فیصد اضافے کے بعد 103.37 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ماہانہ بنیاد پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 11 فیصد اضافے کا امکان ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت اس ماہ تقریباً 14 فیصد بڑھنے کی جانب گامزن ہے۔توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ اس بحران کا اثر پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک پر پڑے گا، جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔متعلقہ عالمی ادارے اور سیکیورٹی فورسز اس خطے کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ خلیجی پانیوں میں بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر مبینہ بارودی سرنگوں کے حملے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

