واشنگٹن ڈی سی :امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھا ہے۔
خبر کے مطابق نائب صدر نے خط میں زور دیا ہے کہ امریکہ کے ممکنہ فوجی حملوں کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات ’جوہری معاملے پر بات چیت‘ کے بغیر ممکن نہیں ہوں گے۔
ایگزیوس کے مطابق یہ خط تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا، اور اس خط کی تجویز خود جے ڈی وینس نے دی تھی۔
ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔
اس سے قبل وال سٹریٹ جرنل نے اس خط کی ترسیل کی خبر دی تھی۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ وینس کا خط گذشتہ ہفتے قطری ثالثوں کے ذریعے محسن رضائی تک پہنچایا گیا تھا۔
اس اخبار کے مطابق وینس نے ’براہِ راست مذاکرات‘ کی تجویز پیش کی اور ان مذاکرات کی ذاتی طور پر قیادت کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ اس خط کا تعلق ایران کو ادویات اور طبی سامان کی فراہمی میں مدد سے تھا۔
گذشتہ ہفتے، جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر تہران کے دورے پر تھے، اسی دوران قطری وفد کی ایرانی دار الحکومت آمد کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تاہم، پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ نے قطری وفد کی آمد کی تردید کی تھی۔
نشریاتی ادارے العربیہ نے بھی بدھ کی شب اطلاع دی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ترکی کی میزبانی میں ایک اجلاس کے انعقاد کی کوششیں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام ان مذاکرات کے ممکنہ موضوعات میں شامل ہو گا۔
ایران اور امریکا میں مذاکرات کی بحالی کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط: "ایگزیوس”

