اسلام آباد :قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کو درپیش موجودہ جیو پولیٹیکل چیلنجز، ایران تنازع کے اثرات اور دفاعی معاہدوں پر وزیراعظم، وزرائے خارجہ و داخلہ ایوان کو باضابطہ بریفنگ دیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا یہ نکتہ بالکل درست ہے کہ تمام فیصلے پارلیامان کے ذریعے کروائے جائیں، اور وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت کی بھی اپنی آئینی و انتظامی ذمے داریاں ہیں جنہیں اسے ہر صورت پورا کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اپوزیشن کو بھی اپنا پارلیمانی کردار احسن طریقے سے ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو عناصر پارلیامان کو کمزور دیکھنا چاہتے تھے، آج ان کا وہ مقصد پورا ہو چکا ہے۔ اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیٹیوں میں شرکت نہ کرنا آپ کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن اگر آپ واقعی پارلیامان کو فعال بنانا چاہتے ہیں تو دونوں اپوزیشن لیڈر اپنی حاصل کردہ اتھارٹی کو استعمال کرتے ہوئے اہم کمیٹیوں بالخصوص ’انتخابی اصلاحات کمیٹی‘ کے لیے اپنے اراکین کو فوری نامزد کریں تاکہ انتخابات سے متعلقہ تمام امور اور مسائل کو حل کیا جا سکے، ورنہ اراکین کی عدم موجودگی میں ایسی کمیٹیوں اور تقاریر کا کوئی عملی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
چیئرمین پی پی پینے مزید خبردار کیا کہ آنے والے دنوں اور مہینوں میں پاکستان کو اہم جیو پولیٹیکل مشکلات اور خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایران تنازع کے ممکنہ نتائج، حالیہ دستخط شدہ دفاعی معاہدے کے مضمرات اور ملک کی اندرونی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی حکمت عملی سے ایوان کو تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔
جیو پولیٹیکل چیلنجز، ایران تنازع اور دفاعی معاہدوں پر وزیراعظم، وزراء پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں، بلاول بھٹو

