یروشلم: اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کی گنتی کا عمل جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے، نتائج ڈرامائی موڑ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ 55.4 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کی جماعت ‘لیکود’ (Likud) کی ابتدائی برتری مسلسل کم ہو رہی ہے، جبکہ اپوزیشن بلاک کے ووٹوں میں پیش رفت دیکھی جا رہی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مقابلے میں لیکود کی مقبولیت میں تقریباً 3 فیصد کی کمی آئی ہے اور وہ اس وقت 20.8 فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر ہے۔ دوسری جانب غادی آئزنکوٹ کی جماعت ‘یشار’ (Yashar) 17.1 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر آ گئی ہے، جس نے پچھلے چند گھنٹوں کے دوران 1 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا ہے۔
صبح 4 بجے کے قریب دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان 8 پوائنٹس کا بڑا فرق تھا، جو اب سمٹ کر 4 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ نفتالی بینیٹ کی قیادت میں قائم ‘ٹوگیدر’ (Together) الائنس نے ‘جوائنٹ لسٹ’ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 9.2 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔اسرائیل میں کل ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج آئندہ چند دنوں میں متوقع ہیں، جبکہ ابتدائی نتائج کے مطابق موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کا اتحاد آگے ہے۔
مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق ووٹنگ کی شرح 77اعشاریہ7 فیصد رہی، جو 20 سال سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ہے اور 2022 کے پچھلے انتخابات کے مقابلے میں تقریباً سات فیصدی پوائنٹ زیادہ ہے۔
آئزنکوٹ نے تل ابیب میں اپنے نعرے لگاتے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسرائیلیوں نے نتن یاہو کے وزیرِ اعظم رہنے کے خلاف ووٹ دیا ہے، اگر وہ ایک ذمہ دار رہنما ہوتے تو عوام کی جانب سے اپنے اعتماد کی واپسی کو قبول کرتے اور آج ہی سیاسی عمل سے سبکدوشی کا اعلان کر دیتے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج ابھی حتمی نہیں ہیں کیونکہ بڑے شہروں کے ووٹوں اور فوجی اہلکاروں کے لفافوں (Soldiers’ Envelopes) کی گنتی ہونا ابھی باقی ہے۔ ان ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا نتن یاہو اپنی حکومت بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر اسرائیل ایک بار پھر سخت سیاسی تعطل اور طویل مذاکرات کے دور میں داخل ہو جائے گا۔
اسرائیل انتخابات: گنتی نصف سے تجاوز کر گئی، نتن یاہو کی برتری برقرار نہ رہ سکی، آئزنکوٹ اور بینیٹ کا زبردست کم بیک!


