لاہور: کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں نے اپنے وکیل رانا مدثر عمر کے توسط سے ایک اہم اور مفصل جوائنٹ اسٹیٹمنٹ جاری کیا ہے۔ بیان جاری کرنے والی قیادت میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ شامل ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا سیاسی منظرنامہ اس وقت انتہائی افسوسناک صورت اختیار کر چکا ہے اور موجودہ حکمران اپنے عدم تحفظ کی کیفیت میں منظم انداز میں آئینِ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
جیل سے جاری کردہ بیان میں پی ٹی آئی قیادت نے کہا:”بانی پی ٹی آئی اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ انہیں اور پارٹی کو سیاسی منظرنامے سے ہٹانے کے لیے مسلسل غیر قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا؛ اقتدار کی ہوس میں سب کچھ قربان کر دیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی سمری پر دستخط کرنے سے عوام کے دلوں سے بانی پی ٹی آئی کی محبت ختم نہیں کی جا سکتی۔”
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کے بیانات میں منافقت نمایاں ہے، جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی خاطر اپنی جان قربان کی اور ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا تھا۔
رہنماؤں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو عدلیہ کی تباہی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج عدالتوں سے انصاف ملنا دشوار ہو چکا ہے اور قیدی اپنی اپیلوں کی سماعت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی اپیل 10 نومبر کو مقرر کرنے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے فوری سماعت کا مطالبہ کیا۔قیدی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پیکا (PECA) ایکٹ کے ذریعے صحافت کی آواز دبائی جا رہی ہے اور الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر صرف من پسند خبروں کی اجازت دی جا رہی ہے۔
پولیس کو بے رحمی اور جرائم کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ پنجاب میں سی سی ڈی کے مقابلوں میں 3 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومتی اراکین اس پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔
"موجودہ حکومت آئین کو تباہ کر رہی ہے، بحرانوں سے نکلنے کے لیے قومی مفاہمت ناگزیر” کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی قیادت کا مشترکہ بیان

