عمرکوٹ: رپورٹ (بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
ضلع عمرکوٹ کے شہر کنری میں مبینہ طور پر بغیر لائسنس اور اجازت نامے کے پٹاخوں کا ذخیرہ کرنے اور کاروبار جاری رکھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق، راجا نامی شخص کی جانب سے خالد کالونی، بوسٹا کے علاقے میں مبینہ طور پر پٹاکوں کا گودام قائم کرکے بڑی مقدار میں آتش گیر سامان ذخیرہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب شاہی بازار میں کرشن ہوتومل کے بیٹے کی جانب سے بھی مبینہ طور پر سرعام پٹاکوں کا کاروبار کرنے اور سامان ذخیرہ کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ان مقامات پر حفاظتی انتظامات موجود نہ ہوئے اور خدانخواستہ کبھی بھی آگ بھڑک اٹھی تو گنجان آبادی اور مصروف بازار میں کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے، جس سے قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔شہریوں نے اہم سوال اٹھایا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور کنری پولیس ان مبینہ گوداموں اور پٹاکوں کے ذخیرے کی جانچ پڑتال کیوں نہیں کر رہی؟ کیا متعلقہ افراد کے پاس ضروری لائسنس، اجازت نامے اور حفاظتی انتظامات موجود ہیں؟ اگر اجازت نامے موجود نہیں ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کب عمل میں لائی جائے گی؟عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ عمرکوٹ، ایس ایس پی عمرکوٹ اور کنری پولیس کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ گوداموں کی جانچ کی جائے، اجازت ناموں اور حفاظتی انتظامات کی تصدیق کی جائے اور قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر سخت کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے حادثے کا انتظار کرنے کے بجائے بروقت اقدامات کیے جائیں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔


