ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو چونکاتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ایران کے معاملے کے بعد اب اگلا نشانہ کیوبا بننے والا ہے۔
جنوبی فلوریڈا میں ایک پرجوش سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں اعلان کیا کہ مشرق وسطیٰ سے واپسی پر امریکی بحری جہاز براہ راست کیوبا کے ساحلوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ساحل پر کچھ فاصلے پر جہاز رکتے ہی کیوبا خوفزدہ ہو کر فوری طور پر ہتھیار ڈال دے گا، اور اس کے بعد وزیر خارجہ مارکو روبیو کو وہاں بھیج کر معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
کیوبا کا شدید اور تند و تلخ ردعمل: امریکہ کی اس کھلی دھمکی پر کیوبا بھی خاموش نہ رہا۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو رودریگز (Bruno Rodríguez) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر کڑا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی عزائم کو سرے سے مسترد کر دیا۔
کیوبا کے وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ:
"ہمارا ساحل بلاشبہ خوبصورت نظاروں سے مالا مال ہے، لیکن یہاں کی خطرناک اور نوکیلی چٹانیں غاصبانہ اور دشمنانہ مقاصد کے ساتھ آنے والوں کا ایسا عبرتناک استقبال کرنے کے لیے تیار ہیں کہ وہ کبھی بھول نہیں پائیں گے۔”
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے اس تازہ بیان سے خطے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی اور سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔

