واشنگٹن +تہران : وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام کو قتل کرنے کے ایرانی منصوبے اپنے ”ایڈوانس اسٹیج“ (آخری مراحل) میں داخل ہو چکے ہیں اور خطے میں سیکیورٹی کا خطرہ جاری جنگ کے بلند ترین درجے تک پہنچ گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق خفیہ معلومات (Intelligence) کے تمام تر اعشاریے اشارہ کر رہے ہیں کہ امریکی وسط مدتی انتخابات (Midterms) سے قبل ہی ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ اور ہولناک جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
انٹیلی جنس رپورٹس کی ہنگامی نوعیت کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں واقع تمام امریکی سفارت خانوں کو خالی کروایا جا رہا ہے، جبکہ اردن، قطر اور کویت میں قائم عسکری اڈوں سے امریکی افواج کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بحری محاذ پر تین امریکی ایئر کرافٹ کیریئرز (طیارہ بردار جہاز) خلیجِ فارس کی طرف تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں، اور امریکی فضائیہ رواں ہفتے ہرمز کے ساحلی پٹی پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے لانچرز پر 3 بار حملہ کر چکی ہے جس پر امریکی سينٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تاحال مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
یادرہے واشنگٹن اپنے سفارتکاروں کو اس حملے کے لیے خالی نہیں کرواتا جو تین ہفتے بعد ہونا ہو؛ یہ ہنگامی قدم اس جوابی حملے سے بچاؤ کے لیے اٹھایا گیا ہے جس کا سامنا آنے والے چند گھنٹوں یا دنوں میں کرنا پڑ سکتا ہے۔ شدید مالی بحران کا شکار اور سپیڈ بوٹس و ہٹ اسکواڈز تک محدود ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امریکی مرضی کا وقت کاٹنے کے بجائے خود پیش قدمی کر کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا جائے۔امریکی اور خلیجی محاذ پر فوج کی تیز ترین اور غیر معمولی نقل و حرکت یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ خطے میں ایک ہولناک اور بڑے عسکری معرکے کا آغاز اب محض کچھ وقت کی بات ہے۔
دوسری طرف ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔
دو سینئر ایرانی سکیورٹی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تہران نے زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ حملوں کے بعد کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے تاکہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی خدمات کی بندش طویل ہوسکے۔
کاؤنٹ ڈاؤن شروع: امریکی اہلکاروں کے مبینہ قتل کا ایرانی منصوبہ،انٹرنیٹ ختم، قبل از وقت بڑی جنگ کے سنسنی خیز انکشافات

