نئی دہلی / جودھپور : انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں شدید کشیدگی اور انڈین و چینی افواج کے درمیان تصادم کا ہنگامہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔
انڈو تبت بارڈر پولیس (ITBP) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے سرکاری سطح پر اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں اروناچل پردیش میں کئی حساس مقامات پر انڈین اور چینی فورسز کا سامنا اور تصادم ہوا ہے، جو اب بھی جاری ہے۔
سرکاری سطح پر اس نوعیت کے اعتراف نے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قابو پانے کے لیے اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں انڈین فورسز کی مزید بھاری نفری روانہ کر دی گئی ہے۔
🚨 BIG BREAKING: Face-Offs with China Continue at Multiple Locations Along Arunachal Border!🤯
=> ITBP DG Mr. Kapur admitted: “A situation arose where face-off happened at several locations in Arunachal and it still continues.”
First official confirmation 🎯 https://t.co/Cn9t9Ab5PO
— The Analyzer (News Updates🗞️) (@Indian_Analyzer) October 23, 2026
آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت کپور نے راجستھان میں فورس کی ایک سالانہ تقریب کے دوران چین کا براہِ راست نام لیے بغیر تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:”اروناچل پردیش میں حالیہ دنوں میں کچھ ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس میں کئی مقامات پر (چینی فوج سے) ٹکراؤ کا سامنا ہوا اور یہ صورتحال اب بھی جاری ہے۔ ہماری حال ہی میں تشکیل دی گئی ‘شوریہ کمانڈو فورس’ نے وہاں بہترین اور مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم جلد ہی شوریہ کمانڈوز کی ایک مکمل اور جدید بٹالین تشکیل دیں گے۔“
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ شدید ٹکراؤ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر گشت اور کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مقامی عسکری کمانڈروں کی متعدد ملاقاتیں اور 6 ستمبر کو کور کمانڈر لیول کے اہم مذاکرات بھی ہو چکے تھے۔
حکومتی اعتراف کے بعد انڈیا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے زوردار مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی ملک کی قومی سلامتی سے جڑے اس انتہائی حساس معاملے پر خاموشی توڑیں اور پارلیمنٹ اور بھارتی عوام کو اصل سرحدی صورتحال سے فوری آگاہ کریں۔

