بین الاقوامی ڈیسک
مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری کشیدگی، سفارتی تعطل اور فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے ایک بار پھر عالمی سطح پر یہ شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ یہ موجودہ صورتحال کسی بڑی اور تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق، خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششیں بار بار ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں، جس کے بعد فریقین کا ایک بار پھر عسکری راستے کی طرف مائل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں متحرک پراکسی نیٹ ورکس اور مختلف ممالک کی براہ راست شمولیت اس تنازع کو مقامی رکھنے کے بجائے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتی ہے۔دوسری جانب، جاری لڑائی اور بمباری کے نتیجے میں انسانی المیہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں نے متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔عالمی اقتصادی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کے نتیجے میں عالمی معیشت، تیل اور گیس کی سپلائی لائنز اور اہم تجارتی راستوں (خصوصاً آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر) پر انتہائی منفی اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائیں، جنگ بندی کے معاہدوں پر عمل درآمد کریں اور خطے کو ایک اور بڑی تباہی سے بچانے کے لیے جامع مذاکرات کا آغاز کریں۔

