بینکاک / ہوکائیدو:
تھائی لینڈ کی ملکہ سوتھیدا نے ایک بار پھر اپنی شاندار پائلٹنگ کی مہارت کا لوہا منواتے ہوئے ایک تاریخی اور طویل پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ وہ خود تھائی شاہی بیڑے کا بوئنگ مسافر طیارہ اڑا کر بنکاک سے جاپان پہنچ گئی ہیں۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، ملکہ تھائی لینڈ نے بنکاک سے جاپان کے ہوکائیدو ائیرپورٹ تک کا تقریباً 7 گھنٹے طویل سفر خود طیارے کی کمان سنبھال کر طے کیا۔ جاپان پہنچنے کے بعد لینڈنگ کے مراحل مکمل کرنے کے بعد ملکہ نے خود ہی گاڑی چلا کر اپنے ہوٹل تک کا سفر بھی طے کیا۔واضح رہے کہ ملکہ سوتھیدا بین الاقوامی آئس ہاکی فیڈریشن کی ویمنز گلوبل ایمبیسیڈر ہیں، اور وہ جاپان میں منعقد ہونے والی آسیان ویمنز آئس ہاکی چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے باقاعدہ پرواز کی قیادت کرتے ہوئے ہوکائیدو پہنچیں۔ملکہ سوتھیدا کے پاس کمرشل پائلٹ کا باقاعدہ لائسنس موجود ہے اور وہ اب تک مختلف طیاروں میں تقریباً 1,190 گھنٹے پرواز کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ اس پرواز سے محض چند دن قبل، 8 اکتوبر 2026 کو، انہوں نے سویڈش ساختہ جنگی طیارہ تنہا اڑا کر دنیا کی پہلی حکمران ملکہ بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا جو سپر سونک فائٹر جیٹ اڑا چکی ہیں۔تھائی لینڈ کا شاہی جوڑا اپنی پائلٹنگ کی مہارت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ عام طور پر بیرونی دوروں کے دوران بادشاہ ماہا وجیرالونگ کورن کیپٹن اور ملکہ سوتھیدا کو-پائلٹ کے فرائض انجام دیتی ہیں، تاہم اس بار ملکہ نے خود اس طویل اور اہم پرواز کی قیادت کر کے ایک اور شاندار سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

