واشنگٹن: امریکہ کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بے لگام اور حد سے زیادہ استعمال نے تعلیمی ایمانداری کے سامنے ایک سنگین بحران کھڑا کر دیا ہے۔حالیہ تعلیمی رپورٹس اور جائزوں کے مطابق، امریکی طلباء کی اکثریت اپنے اسائنمنٹس، تحقیقی مقالوں اور ہوم ورک کے لیے جدید اے آئی چیٹ بوٹس کا استعمال کر رہی ہے، جس سے روایتی تعلیمی نظام کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سے تیار کردہ مواد اس قدر نفاست سے لکھا جاتا ہے کہ روایتی پلیجرازم اور اے آئی ڈیٹیکشن سافٹ ویئر یا تو ناکام ہو رہے ہیں یا ان کے نتائج غیر معتبر ثابت ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب متعدد امریکی جامعات نے اے آئی ڈیٹیکٹرز پر انحصار کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ تعلیمی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار اے آئی پر انحصار کرنے سے طلباء میں خود مختار سوچ، مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور خود لکھنے کی عادت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے امریکہ بھر کے تعلیمی اداروں اور پروفیسرز کی جانب سے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا جا رہا ہے نقل کے رجحان کو روکنے کے لیے اب بعض اداروں میں آن لائن ہوم ورک کے بجائے کلاس روم کے اندر تحریری کام اور زبانی امتحانات (Oral Exams) پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سرسری پابندیاں لگانے کے بجائے تعلیمی اداروں کو طلباء میں "اے آئی لٹریسی” (AI Literacy) کو فروغ دینا ہوگا تاکہ وہ ٹیکنالوجی کو شارٹ کٹ کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے سیکھنے کے ایک معاون آلے کے طور پر برتیں۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے امریکی تعلیمی اداروں میں نقل کا بحران سنگین کردیا

