نئی دہلی :انڈیا کے مرکزی بینک نے تین سال سے زائد عرصے کے دوران پہلی بار شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے انڈین روپے پر بڑھتے دباؤ اور کمزور معیشت کی عکاسی ہوتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایشیا کی تیسری بڑی معیشت کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث مسائل کا سامنا ہے مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کمرشل بینکوں کو قرض دینے کی بنیادی شرح 25 بیسس پوائنٹ کا اضافہ کرتے ہوئے پانچ اعشاریہ 50 فیصد کیا جا رہا ہے جس کا فیصلہ چھ رکنی پینل نے متفقہ طور پر کیا ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ ہی انڈیا بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے مہنگائی پر قابو پانے یا اپنی کرنسی کی قدر کو بڑھانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔
آر بی آئی نے فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے شرح سود میں تبدیلی نہیں کی تھی اور وہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے انڈین معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔
’کمزور معیشت، گِرتی کرنسی اور مہنگائی‘، انڈین مرکزی بینک نے شرح سود بڑھا دی

