واشنگٹن / ماسکو:روس کے سرد خطے ایسٹرن سائبیریا کے شہر ارکتسک میں طاعون کے مبینہ پھیلاؤ اور ایک لیبارٹری ٹیکنیشن کی ہلاکت کے واقعے نے اب عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی ہلچل مچا دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن اس پوری صورتحال پر "انتہائی گہری نظر” رکھے ہوئے ہے اور وہ اس خطرناک آفت سے نمٹنے کے لیے روس کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نیبراسکا میں ایک انتخابی ریلی کے لیے روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: "ہم اس معاملے کا بہت سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم نے ابھی اس بارے میں سنا ہے، لیکن ہم ان کی مدد کریں گے، ہم روس کی مدد کریں گے۔”
جراثیموں کی طاقت پر "ڈاکٹر ٹرمپ” کا طبی تبصرہ
Q: Are you concerned about the outbreak in Russia?
Trump: I am. The pneumonia plague, if you call it. That’s a disease we used to be able control. But somehow those microbes have gotten stronger and smarter. They’re like an army. The germs have really become relatively stronger than they were, and things that used to work on pneumonia don’t work as well anymore
— Acyn (@Acyn) October 5, 2026
گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے عام نمونیا اور طاعون کے مہلک پھیپھڑوں کے انفیکشن (pneumonic plague) کو آپ خلط ملط کرتے ہوئے ایک دلچسپ طبی نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی خوفناک بیماری ہے جسے ماضی میں آسانی سے قابو کر لیا جاتا تھا، لیکن اب جراثیم اور مائیکروبز زیادہ طاقتور اور ہوشیار ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "یہ جراثیم اب کسی فوج کی طرح ہو چکے ہیں، جو ادویات پہلے نمونیا پر اثر کرتی تھیں اب ویسی کارآمد نہیں رہیں کیونکہ جراثیم ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ انہوں نے تاحال اس ممکنہ آؤٹ بریک پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے براہِ راست کوئی گفتگو نہیں کی، تاہم امریکا اس صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے بھی پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ وہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) اور دیگر وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر روس کے علاقے ارکتسک میں سامنے آنے والے مشکوک طاعون اور ہلاکت کی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
ادھر روسی حکام کا اصرار ہے کہ یہ معاملہ نامعلوم وجوہات کے حامل نمونیا کا ہے، اور مقامی اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کسی بھی قسم کے حادثے یا سکیورٹی بریچ کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم عالمی سطح پر اس بیان اور امریکی ردعمل نے بائیوسیکیورٹی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

