نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت قائم کردہ کیس میں مبینہ طور پر داعش سے منسلک گروپ کے رکن محمد شہزاد کمال کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
عدالتِ عالیہ نے کیس کے تمام پہلوؤں اور دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی ضمانت کی درخواست قبول کر لی۔
ٹرائل کورٹ کی جانب سے 29 مئی 2024 کو ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد کمال نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
واضح رہے اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے داعش کے حامی گروپ ‘حرکت الحرب اسلام’ کے ایک مبینہ رکن محمد ثاقب عرف ثاقب افتخار کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ایک مقدمے میں ضمانت دے دی تھی ۔ ہائی کورٹ نے یہ نوٹ کیا تھا کہ وہ آٹھ سال سے جیل میں ہے۔
جسٹس نوین چاولہ اور رویندر دودیجا کی بنچ نے کہا تھا کہ مقدمہ "جلد ختم ہونے والا نہیں ہے” اور اس سے پہلے کا مٹیریل محمد ثاقب عرف ثاقب افتخار کو ضمانت سے انکار کی وجہ نہیں بنتا۔ محمد ثاقب اتر پردیش کے بکسر میں جامع مسجد میں امام کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔

