اتر پردیش (بھدوہی):
اتر پردیش کے ضلع بھدوہی میں طبی لاپرواہی اور بے حسی کا ایک شدید واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک دلت خاتون کو وقت پر اسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں خاتون نے اسپتال کے باہر سڑک کنارے بچے کو جنم دیا۔ اس واقعے کے بعد انتظامیہ میں ہڑکمپ مچ گیا اور اعلیٰ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ذمہ دار ڈاکٹر کی سروس ختم کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، دردِ زہ میں مبتلا دلت خاتون کو ڈلیوری کے لیے مقامی سرکاری ہیلتھ سینٹر لایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور طبی عملے نے خاتون کی سنگین حالت کے باوجود اسے اسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہر بھیج دیا۔ لواحقین کی منت سماجت کے باوجود طبی عملے کا رویہ نہ بدلا، جس کے باعث خاتون کی حالت مزید بگڑ گئی اور اسے مجبورا ًاسپتال کے باہر سڑک کنارے ہی بچے کو جنم دینا پڑا۔
واقعے کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگوں اور لواحقین نے شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کیا۔ معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ طبی حکام نے فوری انکوائری کا حکم دیا۔ ابتدائی تحقیقات میں فرائض سے لاپرواہی اور مریض کے ساتھ غیر انسانی رویہ ثابت ہونے پر متعلقہ ڈیوٹی ڈاکٹر کی سروسز فوری طور پر ختم کر دی گئیں، جبکہ دیگر ملوث عملے کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے پر علاقے کے لوگوں اور سوشل ایکٹیوسٹس کی جانب سے شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں غریب اور پسماندہ طبقات کے ساتھ اس قسم کا سلوک نا قابلِ برداشت ہے اور صحت کے نظام میں جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے ایسے واقعات پر سخت ترین سزائیں دی جانی چاہئیں۔

