نیویارک / دوحہ: قطر کی وساطت سے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے غیر مستقیم مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور معاہدے کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق قطری ثالثوں کی جانب سے دونوں ممالک کے موقف میں نرمی لانے اور تحفظات دور کرنے کے لیے شٹل ڈپلومیسی کا سہارا لیا گیا، تاہم دونوں فریقین کی جانب سے سخت اور ناقابلِ تنسیخ شرائط پر بضد رہنے کے باعث مذاکراتی عمل ڈیڈ لاک کا شکار ہو گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی منتقلی مذاکرات میں پیش رفت کے لیے بنیادی شرط ہے، جبکہ امریکی فریق اپنے مطالبات پر قائم ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قطری حکام آئندہ دنوں میں مزید رابطوں کی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔

