لاہور: لاہور میں غیر ملکی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے ہائی پروفائل مقدمے میں متاثرہ خاتون ’ڈیانا‘ نے عدالت میں اپنا تفصیلی بیان ریکارڈ کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے واقعے کی رات پیش آنے والے خوفناک مناظر سے پردہ اٹھایا ہے۔
عدالت میں جمع کرائے گئے بیان کے مطابق، غیر ملکی خاتون ڈیانا 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھیں، جہاں سے وہ پانچ روز فیصل آباد گزارنے کے بعد لاہور آئیں۔ ڈیانا کا کہنا تھا کہ ان کا ارادہ اسکردو جانے کا تھا، لیکن اکیلے ہونے کی وجہ سے انہوں نے لاہور میں موجود اپنی جان پہچان کی دو لڑکیوں نمرہ اور مسکان کو میسج کر کے ملاقات کا کہا۔
خاتون کے بیان کے مطابق، رات 11 بجے وہ اکیلی ایک کیفے گئیں جہاں مسکان ان سے ملی۔ مسکان کے اصرار پر کہ اس کی دوست نمرہ انتظار کر رہی ہے، وہ اس کے ساتھ بحریہ ٹاؤن چلی گئیں۔ رات دو بجے ایک سفید رنگ کی گاڑی آئی جس میں احمد اور محسن نامی دو لڑکے سوار تھے۔ یہ سب ایک اپارٹمنٹ میں گئے جہاں کھانا کھایا گیا، اور اس دوران دو مزید لڑکے (جن میں سے ایک کا نام علی زین تھا) بھی وہاں آ گئے۔
ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ نمرہ اور محسن نے ایک الگ کمرے میں جا کر بات چیت کی جس میں مسکان بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئی۔ بعد ازاں نمرہ نے محسن سے 20 سے 30 ہزار روپے وصول کیے اور ڈیانا کو بتایا کہ یہ رقم "پارٹی” کے لیے ہے۔ اس پر ڈیانا نے واضح کیا کہ انہیں پیسوں یا شراب کی کوئی ضرورت نہیں۔
بیان کے مطابق، اس کے بعد محسن نے انہیں چھونے کی کوشش کی اور ایک الگ کمرے میں بند کر دیا۔ جب ڈیانا نے نمرہ اور مسکان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ جا چکی ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے جانے کی اجازت مانگی تو انہیں روکا گیا اور کہا گیا کہ ان کی دوست پیسے لے کر جا چکی ہیں۔ ڈیانا کی جانب سے 30 ہزار روپے واپس کرنے کی پیشکش پر ملزمان نے انکار کر دیا۔
متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ علی زین نے انہیں دھمکیاں دیں اور بلیک میل کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ شراب پیو تب جانے دیں گے۔ اس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے ان کے ساتھ زیادتی کا نشانہ بنایا۔
واردات کے بعد ملزمان انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے (محسن ڈرائیونگ کر رہا تھا، احمد ساتھ اور علی زین پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا)۔ ڈیانا کے مطابق ان کے بیگ میں دو لاکھ پاکستانی روپے، ایک آئی فون 13 پرو میکس اور ایک ریڈمی فون موجود تھا جو ملزمان نے واپس کرنے سے انکار کر دیا۔
جب خاتون نے پولیس کو بتانے کی دھمکی دی تو ملزمان نے راستے میں گاڑی کا دروازہ کھول کر انہیں باہر دھکا دے دیا۔ ڈیانا نے موقع پر موجود لوگوں کو ’15‘ پر کال کرنے کا کہا، جن کی مدد سے پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

