لاہور: لاہور میں غیر ملکی لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کے معاملے میں ایک انتہائی ڈرامائی اور سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ متاثرہ آذربائیجانی شہری ’ڈیانا باگی یےوا‘ (Diana Bagiyeva) کا تعلق پاکستان کے ایک معروف اور بااثر سیاسی خاندان سے ہے، اور وہ ان کی سابق بہو رہ چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق 23 سالہ ڈیانا کی دوستی سال 2023 میں باکو کے ایک میٹرو اسٹیشن پر پاکستان کے ایک بااثر سیاسی خاندان کے چشم و چراغ سے ہوئی تھی، جو دیکھتے ہی دیکھتے محبت میں بدل گئی۔ اس دوران ڈیانا نے مبینہ طور پر زیادہ شراب نوشی کے باعث اپنے پاکستانی دوست کے خلاف باکو کے تھانے میں جان سے مارنے کی کوشش کی جھوٹی یا دباؤ کی شکایت بھی درج کرائی تھی۔ تاہم بعد ازاں معاملات طے پانے پر دونوں نے راولپنڈی میں سادگی سے نکاح کر لیا، اور ڈیانا اس سیاسی خاندان کی بہو بن کر پاکستان آ گئی۔
شادی کے بعد نجی زندگی میں تناؤ اور مبینہ طور پر تلخ رویے کی وجہ سے حالات خراب ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ڈیانا کے شوہر نے کچھ گھریلو ناچاقیوں اور مبینہ طور پر فیصل آباد کے ایک دھاگہ تاجر کے ساتھ تعلقات کے شبے پر اسے طلاق دے دی تھی۔ طلاق کے بعد ڈیانا کے روابط اس دھاگہ تاجر (شبیر احمد عرف نقاش) کے ساتھ مزید گہرے ہو گئے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طلاق یافتہ ہونے کے بعد ڈیانا پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم رہی اور مبینہ طور پر فیصل آباد کے تاجر اور اس کے دوست توحید بٹ کے توسط سے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں مشکلات کا شکار ہو گئی۔ الزام ہے کہ مذکورہ افراد نے اسے دھوکے سے اس دلدل میں دھکیلا جہاں وہ مبینہ طور پر اس گھناؤنے جرم کا نشانہ بنی۔
واضح رہے کہ ڈیانا کو چونکہ پچھلے چند سالوں سے پاکستانی پس منظر، ازدواجی تعلق اور مسلسل قیام کی وجہ سے اردو زبان پر عبور حاصل ہو چکا ہے، اس لیے اس نے عدالت اور پولیس کے سامنے اپنے اوپر گزرنے والی بپتا روانی سے بیان کی۔ پولیس اس ہائی پروفائل معاملے میں اب تک شبیر عرف نقاش سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے چکی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

