واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مرکزی اہلکاروں کے ڈیٹا بیس میں بڑی سکیورٹی نقب زنی کا انکشاف ہوا ہے جہاں تقریباً 30 لاکھ (3 ملین) فوجی اہلکاروں اور شہریوں کا انتہائی حساس ڈیٹا 9 ماہ تک ہیکرز کے پاس رہا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ڈیٹا چوری یا نقب زنی کا یہ سلسلہ اکتوبر سے شروع ہو کر جولائی تک جاری رہا، اور پینٹاگون کا مرکزی ڈیٹا بیس اتنے طویل عرصے تک اس خطرناک رسائی سے بے خبر رہا۔
اس سکیورٹی بریچ کی زد میں 27 لاکھ 60 ہزار زندہ اور 2 لاکھ 94 ہزار فوت شدہ افراد کا ڈیٹا آ گیا ہے، جس میں ان کے عہدوں اور ذاتی تفصیلات کے علاوہ سوشل سکیورٹی نمبرز بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس سائبر حملے کی زد میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی ہائرنگ کی ویب سائٹ بھی آئی ہے۔ اس خطرناک کارروائی کے پیچھے مبینہ طور پر (ShinyHunters) نامی ہیکنگ گروپ کا ہاتھ ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ یہ سارا عمل صرف ایک مارکیٹنگ مہم کا حصہ تھا۔
دوسری جانب پینٹاگون کا اصرار ہے کہ انہیں اس ڈیٹا کے غلط استعمال کا فی الحال کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم ماہرین کے نزدیک یہ دعویٰ متاثرہ افراد کے لیے قطعاً اطمینان بخش نہیں۔ تقریباً 30 لاکھ افراد کا یہ نجی و حساس ڈیٹا اس وقت ڈارک ویب پر موجود ہے، اور اس بات کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہیکرز اس خطیر معلومات کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ضرور استعمال کریں گے۔

