کارڈف / لندن:معمول کا نزلہ زکام اور فلو انسانی زندگی کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس کی ایک ہولناک مثال برطانیہ میں سامنے آئی ہے جہاں یونیورسٹی کے 20 سالہ طالب علم رائیلی لوباس (Riley Lobas) نے لاعلمی میں فلو کی دو مختلف دوائیں اکٹھی استعمال کیں۔ دونوں ادویات میں ایک ہی سالٹ ’پیراسیٹامول‘ کی موجودگی کے باعث اوورڈوز ہو گئی، جس سے نوجوان کے متعدد اعضا نے بیک وقت کام کرنا چھوڑ دیا اور اسے انتہائی تشویشناک حالت میں وینٹی لیٹر (لائف سپورٹ) پر منتقل کرنا پڑا۔

طبی ماہرین اور برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے اس کا لیبل بغور پڑھا جائے کیونکہ عام طور پر فلو اور نزلہ زکام کی مارکیٹ میں ملنے والی درجنوں برانڈڈ ادویات میں پیراسیٹامول چھپی ہوتی ہے۔ آر سی جی پی ویلز کے صدر ڈاکٹر ول میک انٹوش کا کہنا ہے کہ نوجوان اکثر تعلیمی دباؤ یا جلدی ٹھیک ہونے کی چاہ میں اوور دی کاؤنٹر ادویات کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جو جگر اور گردوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق ایک بالغ فرد 24 گھنٹوں میں 500 ملی گرام کی زیادہ سے زیادہ آٹھ گولیاں لے سکتا ہے اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اسے مسلسل تین دن سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
”2 پیرا سٹامول دینا“ نزلہ زکام سردرد کا معمولی علاج بھی موت کا پروانہ بن سکتا ہے ، خبردار

