لکھنؤ: اتر پردیش کی معروف کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (KGMU) کی جانب سے کی گئی ایک تازہ ترین سائنسی تحقیق نے طبی شعبے اور عوام میں شدید تشویش لہر دوڑا دی ہے۔ تحقیق کے مطابق ماحولیاتی آلودگی اور غیر معیاری خوراک کے اثرات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ماں کے دودھ کے نمونوں میں بھی مضرِ صحت کیمیائی اجزاء اور آلودگی کے ذرات کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
یونیورسٹی کے ماہرینِ صحت اور محققین نے مختلف شعبہ جات کے تحت دودھ کے نمونوں کا تفصیلی لیبارٹری تجزیہ کیا۔ ٹیسٹس کے دوران ان نمونوں میں کیڑے مار ادویات (Pesticides)، بھاری دھاتوں (Heavy Metals) اور آلودگی کے مضر عناصر پائے گئے، جو شیر خوار بچوں کی نشوونما اور امیون سسٹم کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمیکلز سے تیار شدہ سبزیاں اور پھل، پروسیسڈ فوڈ، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال اور فضائی آلودگی اس صورتحال کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جسم میں داخل ہونے والے یہ زہریلے عناصر خون اور دودھ کے ذریعے منتقل ہو کر نوائیدہ بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ماہرینِ طب نے سفارش کی ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کو اپنی خوراک میں آرگینک اور کیمیکل سے پاک اشیاء کا استعمال بڑھانا چاہیے، پلاسٹک برتنوں کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور تازہ و متوازن غذا کو ترجیح دینی چاہیے۔

