نئی دہلی: ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR – Special Intensive Revision) کے تنازع اور الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافِ رائے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس کی قیادت میں بھارت بھر میں چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ کانگریس نے انتخابی عمل کی شفافیت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے فوری استعفے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہےنئی دہلی، پٹنہ، کولکاتا، لکھنؤ، چندی گڑھ، گوہاٹی، حیدرآباد، جموں، شملہ، دہرادون اور امفال سمیت تمام اہم صوبائی دارالحکومتوں اور شہروں میں کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے الیکشن کمیشن کے دفاتر کا گھیراؤ کیا۔ دہلی کے جنتر منتر، گوہاٹی، لکھنؤ اور دیگر مقامات پر پولیس بیریکیڈس توڑنے پر کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں بشمول رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی اور ریاستوں کے پارٹی صدور کو حراست میں لیا گیا۔ : یہ احتجاجی لہر ان رپورٹس کے بعد اٹھی جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے دو دیگر ممبران (سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی) نے گزشت 10 ماہ کے دوران ووٹر فہرستوں کی تبدیلیوں اور فیصلوں پر 14 بار آن ریکارڈ شدید اعتراض درج کرایا تھا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، جے رام رمیش اور پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں سے جائز ووٹروں کے نام خارج کر کے انتخابی عمل میں ہیر پھیر کی جا رہی ہے۔ پارٹی نے ایس آئی آر (SIR) کے عمل کو فوراً روکنے اور اس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبات پیش کیا ہے۔اس تنازع اور آئندہ کی حکمتِ عملی کو 29 ستمبر کو ہونے والی کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کی اجلاس میں بھی اہم ایجنڈے کے طور پر اٹھایا جائے گا۔

