خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری، حراست یا تحویل میں لینے کے طریقۂ کار سے متعلق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں قانون کے تحت مقررہ طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی اجازت لازمی قرار دینے کے نوٹیفکیشن پر تنقید کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اب اگر کسی رکنِ صوبائی اسمبلی پر کسی فوجداری جرم کا الزام بھی ہو تو پولیس اس کی گرفتاری سے پہلے سپیکر کی اجازت لینے کی پابند ہوگی۔
Now in Khyber Pakhtunkhwa, even if an MPA is accused of a criminal offence, the police must first seek the Speaker’s permission before arresting him.
What next? If an MPA kills someone, will the police first wait for the Speaker’s permission to arrest him?
What an extraordinary… pic.twitter.com/HaxuBDT3c1
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) September 26, 2026
انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’اگلا قدم کیا ہوگا؟ اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھی پہلے سپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟‘
محسن نقوی نے مزید کہا کہ یہ ’قانون کے سامنے برابری‘ کے اصول کی ایک غیر معمولی تشریح ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’شاباش، اسی طرح جاری رکھیں۔ کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟‘
25 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کی دفعہ 11 کے مطابق کسی رکنِ صوبائی اسمبلی کو کسی فوجداری الزام یا جرم کے تحت گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے سے پہلے سپیکر اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گی۔
مراسلے کے مطابق متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو گرفتاری یا حراست کی وجوہات تحریری طور پر سپیکر کو فراہم کرنا ہوں گی۔ قانون کے تحت سپیکر اگر اسے عوامی مفاد میں ضروری سمجھیں تو متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکتے ہیں تاکہ معاملے کے حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ سپیکر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالت میں چالان جمع کرانے سے پہلے مزید انکوائری کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔
صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ کسی بھی رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں مذکورہ قانونی تقاضوں اور طریقہ کار کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے۔

