کراچی :انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد 7 ملزمان کے خلاف ٹرائل کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں عدم شواہد کی بنیاد پر بری کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق عدالت سے بری ہونے والے ملزمان میں شعیب شوٹر، امان اللہ مروت، گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس شامل ہیں۔
ملزمان کے وکیل عابد زمان ایڈووکیٹ کے مطابق گرفتار پولیس اہلکاروں کے خلاف کسی بھی گواہ نے یہ بیان نہیں دیا کہ نقیب اللہ محسود کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔
پراسیکیوشن کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران اور اہلکاروں کو پہلے ہی بری کیا جاچکا ہے، جبکہ مقدمے میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 پولیس افسران اور اہلکار مفرور تھے۔
پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ساتوں مفرور ملزمان نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے بعد خود کو عدالت کے سامنے سرینڈر کردیا تھا۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ نقیب اللہ محسود کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں جنوری 2018 میں کراچی کے علاقے ملیر میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس مقابلے کی شفافیت پر سوالات اٹھے تھے اور معاملہ عدالت تک جا پہنچا تھا۔
پولیس ٹیم کا مؤقف تھا کہ خطرناک دہشتگردوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی میں پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔
نقیب اللہ قتل کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے راؤ انوار کو مقتول کے ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالت نے ان کو رہا کر دیا تھا۔
نقیب اللہ قتل کیس، شعیب شوٹر سمیت 7 ملزمان عدم شواہد کی بنا پر بری

