نئی دہلی :کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ روز بھارتی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ حکام کے درمیان اختلافات کی نشاندہی کی تھی۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جمعرات کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 48 گھنٹے میں استعفیٰ نہ آیا تو ان کی پارٹی ایک بار پھر ملک بھر میں احتجاج شروع کرے گی۔
You cannot Hijack our Democracy and expect us to stay silent.
We are here to reclaim India.
We won’t back off, no matter what. pic.twitter.com/W1ZJIeOchY
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) September 24, 2026
سی جے پی کے شریک کنوینر سورَو داس نے تین اہم مطالبات پیش کیے۔ ان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، گیانیش کمار اور مبینہ طور پر انہیں ہدایات دینے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی اور ملک میں شیڈول تمام انتخابات کی عارضی طور پر معطلی شامل ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کا یہ بیان ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی اس رپورٹ کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں چیف الیکشن کمشنر کی من مانی اور دیگر ارکان کو نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق دو الیکشن کمشنرز، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے چیف الیکشن کمشنر پر الزام عائد کیا کہ وہ بڑے اور اہم فیصلے ارکان کے علم میں لائے بغیر یکطرفہ طور پر کر رہے ہیں اور انہیں الیکشن کمیشن کا متفقہ فیصلہ قرار دیتے آئے ہیں۔دونوں ارکان نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مواقع پر الیکشن کمیشن کے اندر ہونے والے فیصلوں اور اقدامات پر اعتراضات یا تحفظات کا اظہار کیا۔ ان میں زیادہ تر معاملات گزشتہ سال شروع ہونے والی ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل سے متعلق تھے۔بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی الزام عائد ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل کے ذریعے عام شہریوں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے جا رہے ہیں۔
Mamata Banerjee’s constituency:
51k votes deleted. She lost by 15k.M.K. Stalin’s constituency:
1 lakh votes deleted. He lost by 9k.Arvind Kejriwal’s constituency:
40k votes deleted. He lost by 4k.Was this the real reason behind the introduction of SIR?…
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) September 24, 2026
کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے مطالبات میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کو 2025 کی پوزیشن پر واپس لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سی جے پی کے شریک کنوینر آشوتوش رنکا نے کہا کہ اب سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ’جنریشن زی‘ اور دیگر سماجی گروہوں سے مجوزہ احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔
سی جے پی کے شریک کنوینر سورَو داس کا کہنا تھا کہ لوگ ان سے الیکشن کمیشن میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ گیانیش کمار کے چیف الیکشن کمشنر مقرر ہونے کے بعد کئی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ابھیجیت دیپکے نے الیکشن کمیشن پر مبینہ دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ’عروج کے دور‘ میں بھی بعض ریاستوں میں بی جے پی کو اتنے ووٹ حاصل نہیں ہوئے تھے، جتنے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئے ہیں۔
انہوں نے گیانیش کمار پر بی جے پی کے لیے کام کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو میں ابھیجیت ایپکے نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایات پر ہی کام کرتے ہیں۔‘

