نیویارک :اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان نیویارک میں تین گھنٹے طویل اہم مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر جبکہ ایرانی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثوں کے ذریعے شرکت کی۔
جون کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان یہ پہلا باضابطہ رابطہ ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری تنازع اور آبنائے ہرمزسے متعلق کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
اس پیشرفت کے بعد عرب رہنماؤں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ”اسٹیو اور جیرڈ کی آج ایران کے ثالثوں کے ساتھ بہت ہی نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے“۔
ٹرمپ کا ماننا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کے لیے مثبت ماحول بن رہا ہے اور یہ بات وہ ہر طرف سے سن رہے ہیں۔
تاہم ایرانی سرکاری میڈیا اور امورِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق یہ ملاقات امریکا کی درخواست پر قطری ثالث کی مدد سے منعقد کی گئی تاکہ ایران کی شرائط واضح کی جا سکیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق، ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری، امریکی جارحیت کی روک تھام اور تمام محاذوں پر جنگ کا فوری خاتمہ شامل ہیں۔
Iran's Minister of Foreign Affairs @araghchi held talks today with @MBA_AlThani_, the Prime Minister and Minister of Foreign Affairs of Qatar, on the sidelines of the 81st session of the United Nations General Assembly. pic.twitter.com/RvcnCLZFxL
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) September 22, 2026
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں اعادہ کیا کہ ایران پائیدار امن کے لیے سفارت کاری پر کاربند ہے اور امریکی وعدہ خلافی ہی اس راہ میں واحد رکاوٹ ہے۔
دوسری جانب اردن کے شاہ عبداللہ نے بھی امریکی صدر اور دیگر عرب رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں خطے میں مزید بڑھتی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے انتہائی ضبطِ نفس کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں تصدیق کی کہ دن بھر جاری رہنے والی یہ گفتگو قطری اور دیگر ثالثوں کی تگ و دو کے بعد کامیابی سے مکمل ہوئی ہے اور امید ہے کہ یہ پیشرفت تعمیری ثابت ہوگی۔
دوسری طرف جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت لہجہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے یا اسے نتائج بھگتنے پر مجبور کرنے کا ایک بڑا فیصلہ موجود ہے، لیکن امریکا جلد اس معاملے کو نپٹا لے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا اور دنیا کے تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی مہم میں ان کا ساتھ دیں۔
اس سفارتی ہلچل کے باوجود ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ممکنہ فوجی ردعمل کا اشارہ دیتے ہوئے تمام حالات کے لیے تیار رہنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔

