بیجنگ :چین کی حکومت نے غداری، بدعنوانی اور شدید انضباطی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت اپنے دو انتہائی سینئر فوجی افسران ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی کو کمیونسٹ پارٹی اور ملٹری سے خارج کر دیا ہے۔
ژانگ یوژیا سینٹرل ملٹری کمیشن میں صدر شی جن پنگ کے بعد دوسرے نمبر پر نائب چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں طویل عرصے سے شی جن پنگ کا سب سے قریب ترین فوجی اتحادی سمجھا جاتا تھا، جبکہ لیو ژینلی ملٹری کمیشن کے رکن اور جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف تھے۔
دونوں اعلیٰ جرنیلوں کے خلاف رواں سال جنوری میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں ریاستی عہدوں سے ہٹا دیا گیا اور اب سرکاری طور پر پارٹی اور فوج سے نکال دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد سات رکنی سینٹرل ملٹری کمیشن میں اب صدر شی جن پنگ سمیت صرف دو فعال ارکان باقی رہ گئے ہیں۔
چینی قیادت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں سابق فوجی افسران نے پارٹی سے بے وفائی کی، اصولوں کو پامال کیا اور سخت ڈسپلن قائم رکھنے میں ناکام رہے۔
چین سرکاری خبر رساں ادارے ’ژنہوا‘ کے مطابق ژانگ یوژیا اور لیو ژینلی نے سیاسی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی کی، گروپ بندیاں اور دھڑے بندیاں کیں اور وہ پارٹی کے ساتھ وفادار اور مخلص نہیں رہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں نے سرخ لکیروں اور بنیادی حدود کو عبور کیا جہاں ان کی سیاسی و معاشی غلطیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں، اور بدعنوانی، فرائض میں غفلت اور عہدے کے ناجائز استعمال سے اپنے لیے فائدے حاصل کیے گئے۔
حکام کے مطابق اس معاملے میں شامل رقم انتہائی خطیر تھی، جبکہ ان کے اقدام کی نوعیت انتہائی سنگین اور اثرات شدید ترین ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ اجلاس میں ان اخراج کی منظوری کے بعد دونوں سابق جرنیلوں کے مقدمات کو مزید قانونی تفتیش اور کارروائی کے لیے ملٹری پراسیکیوٹرز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
غداری ، بدعنوانی پر دو چینی جنرلز ملازمت سے فارغ،مزید کارروائی کیلئے ملٹری پراسیکیوٹرز کے حوالے

