یروشلم / نیویارک:اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا رواں ہفتے کا امریکی دورہ تاریخ کے سب سے مختصر دوروں میں سے ایک بننے جا رہا ہے، جس کے دوران نہ صرف ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا کوئی امکان ختم ہو گیا ہے بلکہ ایلون مسک سے شیڈول ملاقات بھی عین وقت پر منسوخ کر دی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا اور سرکاری ذرائع کے مطابق ابتدائی پلان کے تحت نیتن یاہو نے بدھ کو امریکا پہنچنا تھا اور ٹیکساس کا دورہ کر کے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک سے ملاقات کرنا تھی
تاہم، یہ طے شدہ دورہ اچانک منسوخ کر دیا گیا اب وہ صرف ، دوپہر دو بجے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) سے خطاب کرنے اور فوری بعد ہی واپس اسرائیل روانہ ہوجائیں گے
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابقشیڈول میں تبدیلی کے باعث نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ صدر ٹرمپ منگل کے روز جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے اور خلیجی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنے کے بعد جمعرات کو واشنگٹن واپس لوٹ جائیں گے جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہم سربراہی ملاقات شیڈول ہے۔ اس دوران نیویارک میں نیتن یاہو کی امریکی انتظامیہ میں سب سے بڑی ملاقات وزیر خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) سے متوقع ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کو نیویارک میں ایک بار پھر شدید مخالفت اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی خطاب کے دوران کئی ممالک کے نمائندے ہال سے واک آؤٹ کر سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی متوقع ہیں۔ نیویارک کے میئر اور مقامی حکام کی جانب سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ جی اے (GA) کے ہفتے کے دوران شہر میں ہزاروں پولیس اہلکار اور سیکیورٹی ادارے الرٹ پر ہیں۔

