واشنگٹن + گرین لینڈ :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے بالآخر ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتیں جھک گئی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق منگل کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ایک اہم اور تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جا رہے ہیں، جس کے تحت جنوبی گرین لینڈ میں سرد جنگ کے زمانے کا ایک پرانا فوجی اڈہ دوبارہ کھولا جائے گا، جبکہ مشرقی ساحل پر بھی امریکی فوجی پوسٹ قائم کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت دو اہم مقامات پر عسکری سرگرمیاں بحال ہوں گی:
نارسارسواک (Narsarsuaq): جہاں 1950 کی دہائی میں امریکا نے اپنا ’بلو ویسٹ ون‘ (Bluie West One) فوجی اڈہ بند کر دیا تھا اور اب وہاں کی آبادی چند درجن افراد تک سمٹ چکی ہے۔
میسٹرسوروگ (Mestersvig): جو اس وقت ڈینش اسپیشل فورسز کے کتوں کےسلیج گشت (Sirius Dog Sled Patrol) کے زیرِ استعمال ایک چھوٹا ملٹری آؤٹ پوسٹ ہے۔
یہ معاہدہ دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طویل مدتی دھمکیوں اور دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ امریکہ کو گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہیے، اور انہوں نے ماضی میں اس نیم خود مختار ڈینش خطے کو حاصل کرنے کے لیے فوجی یا معاشی طاقت استعمال کرنے سے بھی انکار نہیں کیا تھا۔ جنوری میں ٹرمپ کی ان دھمکیوں نے نیٹو (NATO) کے اندر ایک شدید سفارتی بحران پیدا کر دیا تھا، جس کے بعد ڈنمارک اور گرین لینڈ مجبور ہو کر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئے تاکہ امریکی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
تاہم معاہدے سے واقف تین اہم شخصیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ معاہدے کی حتمی تفصیلات پر ابھی تک غور وخوض جاری ہے اور یہ معاہدہ دستخط ہونے تک عام نہیں کی جائیں گی ۔

