واشنگٹن / لندن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں، روایتی اتحادیوں سے لاپرواہی اور مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی تباہ کن جنگ نے عالمی سیاست کا تختہ الٹ دیا ہے۔
دنیا بھر کے ممالک نے غیر یقینی اور جارح مزاج امریکی صدر کے خوف سے واشنگٹن پر روایتی انحصار ختم کرتے ہوئے نئے دفاعی، عسکری اور معاشی اتحادوں کی تشکیل شروع کر دی ہے، جس سے ایک نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے۔
برطانوی اخبار گارجین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ماہرینِ امورِ خارجہ کے مطابق، اب دنیا ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ممالک امریکی غلبے کی بجائے اپنی سلامتی اور معیشت کو بچانے کے لیے خود مختار اور متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسے پلیٹ فارمز تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، جہاں عالمی جنوب (Global South) کے ممالک امریکی مالیاتی نظام اور ڈالر کی اجارہ داری سے بچنے کے لیے غیر ملکی تجارت کا ایک متوازی نظام تشکیل دے رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں صورتحال سب سے زیادہ ڈرامائی ہے۔ خلیجی ممالک کی روایتی سلامتی کا تصور اس وقت پاش پاش ہو گیا جب امریکی فوجی اڈے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے، اور واشنگٹن نے خطے میں اسرائیل کی من مانیوں کو کھلی چھوٹ دی۔ اس کے ردعمل میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے تاریخی ’مکہ معاہدے‘ (Mecca Pact) پر دستخط کر کے ایک نئے دفاعی اتحاد کی بنیاد رکھی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی سیکیورٹی کے لیے صرف امریکہ پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
گارجین کے مطابق صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ مغرب کے اپنے پرانے اتحادی بھی اس تبدیلی کی لپیٹ میں ہیں:
کینیڈا اور تجارتی جنگ: کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنے کے الفاظ میں، دنیا کی متوسط طاقتیں اب ایک ایسے نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں جو انہیں امریکی اقتصادی جارحیت سے محفوظ رکھ سکے۔ کینیڈا اب کھلے عام امریکا کو ایک "پریڈیٹر ہیگیمون” (غیر محفوظ کرنے والا طاقتور ملک) قرار دے رہا ہے۔
یورپ اور ایشیا کی نئی صف بندی: جنوبی کوریا اور جاپان جیسی ریاستیں بھی واشنگٹن کی روگردانی کے بعد اپنے دفاعی فیصلوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف چین اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایشیا میں خود کو ایک زیادہ قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرانا ٹرانس اٹلانٹک (Transatlantic) نظام اب ہمیشہ کے لیے گزر چکا ہے۔ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکا اب اپنے اتحادیوں کا محافظ نہیں رہا، بلکہ اس کے اپنے مفادات ہی سب کچھ ہیں—یہی وجہ ہے کہ دنیا اب بغیر امریکا کے اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

