محکمہ انہار کے عملے نے آنکھیں بندکرلیں،متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
ہارون آباد (ملک شاھد محمود تبسم کی) رپورٹ کےمطابق نہر فورآر کی موجودہ صورتحال پکس اور ویڈیوز میں بخوبی دیکھی جاسکتی ہے کہ محکمہ انہار کے افیسران اور ماتحت عملہ اہل علاقہ کے کاشتکاروں کو پانی جیسی بنیادی سہولت فراہم کرنے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں محکمہ انہار کے افیسر ان اور ماتحت عملہ کی مبینہ غفلت کے باعث نہر فور آر پر اباد کاشتکار انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں
نہر فور ار خصوصا ٹیل پر آباد کاشتکاروں کا پریشانی اور بد حال قابل رحم ہے جبکہ کاشتکاری ملکی معیشت مین ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے بڑے افسوس کامقام ہے آج یہ ریڈھ کی ہڈی جگہ جگہ سے فریکچر ہوچکی ہے اور اس پر تعجب یہ ہے کہ اس ٹوٹی ہوئی ہڈی کا غلاج معالجے کا ٹھیکہ بھی غیر تربیت یافتہ لوگوں کو دے دیا گیا جنھیں عرف غام میں ملازمین محکمہ انہار کہا جاتا ہے
جس میں بیلدار بھی ہوتے ہیں پنسالیہ بھی ملازمین کی ایک کریڈٹ لائن ہوتی ہے جو متعلقہ نہر پر آباد کاشتکاروں کی خیریت دریافت کرنے پر معمور ہوتے ہیں بہر حال قصہ مختصر نہرون پر اباد کاشت کار بدحالی کا شکار ہیں جبکہ بہت پیچھے نہروں کے گردوپیش آباد کاشت کار بہت تنگدستی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اہل علاقہ کے کاشتکاروں نے میڈیا کے توسط سے وزیر ابپاشی کمشنر بہاولپور۔ڈپٹی کمشنر بہاولنگر اور اسسٹنٹ کمشنر ہارون آباد سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غفلت اور مسلسل ہٹ دھرمی کے مرتکب محکمہ انہار کے نام نہاد افیسران و ماتحت عملہ سے سختی سے باز پرس کی اپیل ہے۔۔


