اسلام آباد:وفاقی آئینی عدالت نے قیدیوں کو علاج کے لیے نجی اسپتالوں میں منتقل کرنے کے معاملے پر سخت قانونی ریمارکس دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کو جیل رولز کی صریح خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس اہم ترین قانونی نکتہ پر سماعت کل منگل تک ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے پر کل ہی حتمی فیصلہ صادر کیا جائے گا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ بیمار قیدیوں کے علاج کے لیے ہمیشہ "پرائیویٹ اسپتال” کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں پمز (PIMS) اور پولی کلینک جیسے بڑے اور معیاری سرکاری اسپتال موجود ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے واضح کیا کہ جیل کے قوانین بالکل واضح ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے، جس کے تحت کسی بھی قیدی کو طبی امداد کے لیے صرف اور صرف سرکاری اسپتال ہی لے جایا جا سکتا ہے۔
آئینی عدالت نے اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو بھی طلب کر رکھا ہے، اور کل ہونے والے فیصلے سے ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی طبی سہولیات اور اسپتال منتقلی کے حوالے سے ایک نیا قانونی اصول طے پانے کا امکان ہے۔
قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی : سپریم کورٹ کا فیصلہ جیل رولز کی خلاف ورزی قرار، آئینی عدالت کل حتمی فیصلہ جاری کرے گی

