پشاور:پشاور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے کے مقدمے میں ایک بڑا اور سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرواتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اس کیس میں براہِ راست ملوث ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے پولیس کی حتمی رپورٹ پیش کی، جس میں نامزد ملزمان اور واقعات کی کڑیوں کو ملاتے ہوئے وزیراعلیٰ کے اس پرتشدد واقعے میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس رپورٹ کے ساتھ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی اہم رپورٹس بھی عدالت میں جمع کرا دی گئی ہیں، جن میں ڈیجیٹل اور صوتی شواہد کا جائزہ لیا گیا ہے۔
پولیس رپورٹ جمع کرانے کے عمل میں اگرچہ ابتدائی طور پر کچھ تاخیر دیکھنے میں آئی تھی، تاہم اعلیٰ حکام کی سخت ہدایات کے بعد اسے باضابطہ طور پر عدالت کا حصہ بنا دیا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پیش کی جانے والی پولیس رپورٹ اور فرانزک شواہد کی روشنی میں فریقین کے دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 14 ستمبر 2026 تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور قانونی جنگ کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کیا9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ملوث تھے؟پولیس نے اہم رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی

