یروشلم / تہران: ایک سفارتی روایت، ایران کی مہربانی جو اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، آج بھی زندہ ہے۔ 1968 میں اسرائیل کے نیچر اینڈ پارکس اتھارٹی کے جنرل ابراہم یوفے نے شاہِ ایران محمد رضا پہلوی کی شاہی شکارگاہوں ranchesسے جنگی گدھوں (Persian onagers) کے حصول کے لیے انتہائی خفیہ مذاکرات کیے تھے۔ جس کے نتیجے میں اس وقت ایران کی جانب سے گیارہ گدھے اسرائیل کو تحفتا دیے گئے تھے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان گدھوں کو یوتواتا میں بریڈنگ پروگرام کے تحت رکھا گیا۔بعد ازاں 1970 کی دہائی میں ایتھوپیا کے جنگلی گدھے بھی خریدے گئے اور ان کی نسل کشی (Crossbreed) کر کے ایک ایسی نئی نسل تیار کی گئی جو ہائبرڈ توانائی کی وجہ سے نقب (Negev) کے صحرا کے سخت ماحول میں سب سے زیادہ موزوں ثابت ہوئی۔ 1982 میں ان میں سے 28 جانوروں کو ریمون کریٹر میں آزاد چھوڑ دیا گیا، اور آج ان کی تعداد بڑھ کر 500 سے 600 کے درمیان پہنچ چکی ہے۔
یہ جانور اب صحرا کی ماحولیاتی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے کھر زمین میں دو میٹر گہرائی تک سوراخ کر کے زمینی پانی تک پہنچ جاتے ہیں، اور ان کے بنائے ہوئے یہ کنویں لومڑیوں، ہرنوں اور چمگادڑوں کی پیاس بجھاتے ہیں۔ وہ کیکر (Acacia) کی پھلیاں کھاتے ہیں اور ان کے بیج خارج کرتے ہیں جن کے اوپر کا سخت خول ان کے معدے کے تیزاب سے نرم ہو جاتا ہے، جس سے ریگستان میں پودے اگنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے قدموں کے نشانات بارش کے بعد پانی ذخیرہ کرنے والے چھوٹے تالابوں کا کام دیتے ہیں۔
لیکن دو جانی دشمن ممالک جو آج ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی حالت میں ہیں، حیرت انگیز طور پر سفارتی تحفہ آج بھی نہ صرف ماحولیاتی جنگ میں اہم کردار ادا کررہا ہے بلکہ شائد امن کی ایک مدھم کرن بھی ہے۔

