کوسوو: سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ نے پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے اگلے ماہ قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کردیا ہے۔ وہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے انتخابات میں حصہ لے کر اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔
ووچچ ایک عوام پسند رہنما ہیں اور گزشتہ 12 برس سے صدر یا وزیراعظم کی حیثیت سے اقتدار میں ہیں۔ انہیں نومبر 2024 میں شہر نووی ساد کے ایک ریلوے اسٹیشن کی چھت کا سائبان گرنے کے واقعے کے بعد بدعنوانی کے خلاف تقریباً دو سال سے جاری احتجاجی مظاہروں کا سامنا ہے۔ اس حادثے میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔انہوں نے انتخابات کے لیے 25 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی، جس سے انتخابات کے وقت سے متعلق ان کے سابقہ بیانات کی بھی تصدیق ہوگئی۔ پارلیمانی انتخابات ابتدائی طور پر اگلے سال ہونا تھے۔
ووچچ 2014 سے وزیراعظم یا صدر کی حیثیت سے حکومت کر رہے ہیں اور دونوں عہدوں پر رہتے ہوئے عملی طور پر اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی۔ ان کے دور میں ملک نے اقتصادی ترقی کا ایک مرحلہ دیکھا، تاہم بدعنوانی اور آمرانہ طرز حکمرانی کے تاثر کے باعث ان کے خلاف عوامی ناراضی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے باوجود انہیں اپنی حکمران جماعت سربین پروگریسو پارٹی کی حمایت حاصل ہے، جس نے ہفتے کو آئندہ انتخابات میں انہیں وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا تھا۔
یہ واضح نہیں کہ ووچچ پارلیمانی انتخابات سے قبل صدر کے عہدے سے مستعفی ہوں گے یا انتخابات کے بعد ہوں گے۔

