اسلام آباد :وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس صورت میں فعال ہوسکتا ہے اگر یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیل جاتا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ معاہدہ اجتماعی دفاع کا انتظام ہے، جس کے تحت ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تینوں ارکان کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بلااشتعال جارحیت یا یمن کے تنازع کے سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں یہ معاہدہ فعال ہوجائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور باہمی مدد فراہم کرنا ہے۔
وزیر دفاع کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات پر حملے کیے، جن میں اطلاعات کے مطابق 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں معاہدہ کنندہ ممالک نے اپنی اپنی دفاعی صلاحیتیں واضح کردی ہیں اور ضروری نہیں کہ جارحیت کا جواب بھی جارحیت سے دیا جائے۔ ان کے بقول دفاعی معاہدہ خود بھی ایک روک تھام کی صلاحیت کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ماضی میں مشکل حالات کے دوران پاکستان نے مملکت کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں یمن کا تنازع شدت اختیار کرنے کے وقت بھی پاکستان نے سعودی عرب کی مدد کی تھی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ صورتحال میں کشیدگی کم ہوگی اور حوثی یمن کے تنازع کو سعودی سرزمین تک پھیلانے سے گریز کریں گے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان موجودہ امریکا، ایران کشیدگی کے حل کے حوالے سے بھی پرامید ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، تاہم بالواسطہ رابطہ کاری کا سلسلہ جاری ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تنازع کے دونوں جانب موجود ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کے باعث ملک کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔
یمن تنازع سعودی عرب تک پھیل گیا تو ” مکہ دفاعی معاہدہ“ فعال ہوجائے گا، خواجہ آصف وزیردفاع

