واشنگٹن:ایران کے ساتھ جاری طویل اور تباہ کن جنگ کے اثرات اب دنیا بھر کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ امریکا میں جمعہ کے روز ڈیزل کی قیمتوں نے تاریخ کا نیا ریکارڈ توڑ دیا ہے جہاں یہ پہلی بار اوسطاً 5.85 ڈالر فی گیلن کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں۔
امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے مطابق، فروری کے اواخر میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، اس وقت ملک میں ڈیزل کی اوسط قیمت تقریباً 3.76 ڈالر فی گیلن تھی، جو اب آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ باقاعدہ پٹرول (گیسولین) کی قیمت بھی بڑھ کر 4.15 ڈالر فی گیلن ہو چکی ہے جو پچھلے سال اس وقت 3.20 ڈالر تھی۔ بین الاقوامی معیار کا برینٹ خام تیل، جو جنگ سے پہلے 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا، اب بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکا ہے۔
چونکہ ڈیزل دنیا بھر کے ٹرکوں، ٹرینوں، کارگو بحری جہازوں اور زرعی مشینری کا بنیادی ایندھن ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر ہر اس چیز پر پڑتا ہے جو سڑکوں یا سمندروں کے ذریعے سفر کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا سب سے پہلا اور شدید اثر گروسری کی خریداری پر پڑے گا، خصوصاً سبزیاں، گوشت اور وہ تمام اشیا جو جلدی خراب ہونے والی ہیں اور جنہیں بار بار ریفریجریٹڈ ٹرانسپورٹ کے ذریعے لانا پڑتا ہے۔
پالیسی اور فوڈ اکنامکس کے ماہرین کے مطابق، اگرچہ ابتدائی مراحل میں سپلائی چینز اور کمپنیاں اپنے پرانے معاہدوں کے تحت اضافی بوجھ خود برداشت کرتی ہیں، لیکن جیسے جیسے معاہدے تجدید ہوتے ہیں اور ایندھن کے سرچارجز بڑھتے ہیں، اس کی پوری مار پڑتی تو براہِ راست عام صارفین کی جیبوں پر ہی ہے۔ ایمیزون، یو پی ایس (UPS)، فیڈ ایکس اور یو ایس پوسٹل سروس جیسی بڑی لاجسٹک اور ای کامرس کمپنیوں نے پہلے ہی پیکیجنگ اور شپنگ پر 3.5 فیصد یا اس سے زائد کے عارضی ایندھن سرچارجز (fuel surcharges) عائد کر رکھے ہیں۔
امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات (midterm elections) سے قبل معاشی مسائل اور مہنگائی کی یہ لہر سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا رہی ہے، کیونکہ عام ووٹرز کے لیے مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتیں اس وقت سب سے بڑا اور اہم موضوع بن چکی ہیں۔
امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں نے تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا: سپلائی لائنز مفلوج، مہنگائی کا طوفان امڈ آیا

