لاہور:صوبائی وزیر عظمی بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے معاملے پر عدالت میں سماعت کے دوران گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی ہے، جہاں صوبائی وزیر نے ذاتی طور پر پیش ہو کر بطور گواہ اپنا بیان قلمبند کروا دیا ہے۔ سماعت کے دوران فریقین کے دلائل اور جج کے ریمارکس کا تبادلہ ہوا۔
عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ کے وکیل علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں گواہ پر جرح کے لیے انہیں کم از کم چھ گھنٹے کا طویل وقت درکار ہوگا۔ وکیل نے عدالت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ "آج آپ نے عدالتی وقفے کے دوران بھی کیس کی کارروائی چلا کر یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی کیس ہے، جبکہ یہ مقدمہ ایک سال سے تاخیر کا شکار چلا آرہا ہے۔”
اس پر صوبائی وزیر عظمی بخاری نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طرف سے کبھی بھی کوئی تاخیری حربہ استعمال نہیں کیا گیا، اور وہ تو شروع دن سے کہہ رہی ہیں کہ ملزمہ چاہیں تو ویڈیو لنک کے ذریعے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرا سکتی ہیں۔ عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ان پر بلاوجہ تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
صوبائی وزیر نے عدالت میں یہ شکوہ بھی کیا کہ اصل میں "اسپیشل ٹریٹمنٹ” ملزمہ کو فراہم کیا جا رہا ہے، جو عدالت میں آکر خاموش بیٹھی رہتی ہیں اور جیل سے باقاعدہ تیار ہو کر پیشی کے لیے آتی ہیں۔
دورانِ سماعت جج نعیم ووٹو نے فریقین کے دلائل سنتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت کی جانب سے اس کیس میں کسی قسم کا کوئی "اسپیشل ٹریٹمنٹ” نہیں دیا جا رہا۔ جج نے مزید کہا کہ اگر کوئی وکیل عدالت آکر یہ درخواست کرتا ہے کہ کیس کی سماعت ایک بجے رکھ لی جائے تو وہ اس سے انکار نہیں کرتے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد صوبائی وزیر عظمی بخاری کے بیان پر تفصیلی جرح کے لیے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے، جبکہ کارروائی کو اس تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
عظمی بخاری فیک ویڈیو کیس: صوبائی وزیر کا بطور گواہ بیان قلمبند، عدالت میں تلخ کلامی

