اسکردو:نوجوان کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت پہاڑ سے واپس لانے کے لئے ریسکیو ٹیموں نے 30 لاکھ روپے مانگ لئے، تین دن گذرنے کے باوجود میت واپس نہ لائی جاسکی، آبائی علاقے شرقپور میں سوگ، جبکہ ان کے اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ میت کی بحفاظت منتقلی کیلئے مدد کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش تین دن سے سکردو کے پہاڑ پر 6,400 میٹر کی بلندی پر موجود ہے اور محفوظ و باوقار طریقے سے اس کی میت کو واپس لانے کا انتظار کیا جا رہا ہے
ڈاکٹر اسما مشتاق کے خاندان کے مطابق میت نیچے لانے کے لیے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے طلب کیے جانے کی بات انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:
کوہ پیما اسما مشتاق کا اسپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد انتقال،آخری ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی
گلگت بلتستان مہم جوئی اور ماؤنٹین ٹورازم کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ اگر کوہ پیماؤں یا ان کے خاندانوں کو ہنگامی حالات میں اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے گلگت بلتستان کی سیاحت کے بارے میں منفی تاثر مرتب ہوگا۔
چوٹی سر کرنے کے بعد واپس آتے ہوئے جان بحق ہونے والی ڈاکٹر عاصمہ مشتاق کا آبائی علاقہ شرقپور ہے تین روز گزر گئے اس کی ڈیڈ باڈی ریکور نہ کی جاسکی شرقپور کی فضا سوگوار ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کمپنی لوگوں کو خطرناک پہاڑی مہمات پر لے کر جاتی ہے تو مشکل وقت میں اپنے کلائنٹس کی حفاظت، ریسکیو اور واپسی کے لیے اس کی ذمہ داری کیا ہونی چاہیے—اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہیے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت ان کے خاندان کا حق ہے۔ ریاستی ادارے، ریسکیو ٹیمیں، متعلقہ کمپنی اور تمام ذمہ دار حکام فوری طور پر مشترکہ اقدامات کریں اور اسما کی میت کو بحفاظت نیچے لانے کا انتظام کریں۔اگر کوئی کمپنی لوگوں کو خطرناک پہاڑی مہمات پر لے کر جاتی ہے تو مشکل وقت میں اپنے کلائنٹس کی حفاظت، ریسکیو اور واپسی کے لیے اس کی ذمہ داری کیا ہونی چاہیے—اس سوال کا جواب ضرور ملنا چاہیے۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت ان کے خاندان کا حق ہے۔ ریاستی ادارے، ریسکیو ٹیمیں، متعلقہ کمپنی اور تمام ذمہ دار حکام فوری طور پر مشترکہ اقدامات کریں اور اسما کی میت کو بحفاظت نیچے لانے کا انتظام کریں۔
کوہ پیما ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت پہاڑ سے نیچے لانے کے لیے 30 لاکھ روپے طلب، بے بس اہل خانہ کی حکومت سے اپیل

