تل ابیب یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران کم از کم 270,000 اسرائیلی ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو گئے
تل ابیب:لبنان، ایران اور شام سمیت مختلف ملکوں سے جنگیں چھیڑنے کے بعد اسرائیل کو تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی لہر کا سامنا ہے۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل سے جانے والوں میں عام شہریوں کے بجائے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور زیادہ کمانے والے پروفیشنلز کی بڑی تعداد شامل ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کی اس ماہ جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق، سال 2023ء سے 2025ء کے دوران تقریباً 2,70,000 اسرائیلی شہری مسلسل کم از کم تین ماہ یا اس سے زائد عرصے کے لیے ملک چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ یہ تعداد ایک دہائی قبل کے اسی عرصے کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہے۔
ڈیلی صباح کی رپورٹ کے مطابق اس رجحان نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اسرائیل کو سنگین نوعیت کے ‘برین ڈرین’ (ذہین اور ماہر افراد کے انخلا) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کنیسہ (پارلیمنٹ) کے کمیٹی مباحثے اور ٹیکس اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، بیرون ملک جانے والے افراد عام آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔
سنہ 2022ء میں ہجرت کرنے والے 25 سے 64 سال کی عمر کے افراد میں گریجویٹس کی شرح عام آبادی سے ڈیڑھ گنا، ماسٹرز ہولڈرز کی دو گنا اور پی ایچ ڈی ڈاکٹرز کی شرح 4.6 گنا زیادہ تھی۔
صرف سال 2024ء کے دوران 530 طبی ماہرین (ڈاکٹرز) اسرائیل چھوڑ کر چلے گئے، جن میں سے دو تہائی نے مقامی اداروں سے ہی تعلیم حاصل کی تھی، جبکہ واپس آنے والے ڈاکٹروں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
ہجرت کرنے والے امیر اور پروفیشنل افراد کی اوسط سالانہ آمدنی میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ماضی کے 125,000 شیکلز سے بڑھ کر 2024ء میں تقریباً 200,000 شیکلز تک پہنچ گئی۔
آزاد سیاسی مبصر اور سابق یونیورسٹی پروفیسر اوری گولڈبرگ (Ori Goldberg) نے انادولو ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار ملک میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور اداروں کی کارکردگی میں زوال کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے اس تمام صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار اکتوبر 2023ء کے بعد کے حالات کو قرار دیا، جہاں سیاسی تلخی، عدالتی اصلاحات کے تنازعات اور اجتماعی ٹراما نے اسرائیلی معاشرے کو مزید پولرائزیشن کی طرف دھکیل دیا ہے۔ صحت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں حالات مشکل ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز اور ہائی ٹیک ورکرز مستقل بنیادوں پر ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ عارضی لہر ہے یا طویل مدتی تبدیلی، تاہم ٹیکنالوجی، صحت اور اکیڈمک شعبے کے ماہرین کا اس طرح بڑی تعداد میں باہر چلے جانا طویل عرصے میں اسرائیلی معیشت اور معاشرے کے لیے گہرے اور منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے۔

