اسلام آباد: وفاقی حکومت کے اہم وزراء نے اپوزیشن کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، اور اس انسانی معاملے پر کبھی سیاست نہیں کی گئی۔
ہماری قیادت ظرف اور کردار رکھتی ہے، ہم نے کبھی کسی کی بیماری پر سیاست نہیں کی۔ ماضی میں جب میاں نواز شریف بیمار تھے تو ان کے ڈاکٹرز کو اٹھایا گیا، تفتیش کی گئی اور کابینہ میں ٹھٹھے لگائے گئے۔ عدالت نے ان کا رویہ دیکھ کر واضح کہا تھا کہ سیاست نہیں کریں گے کیونکہ ان کے پاس اب صرف… pic.twitter.com/NdNx7VuHaG
— PMLN (@pmln_org) August 19, 2026
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ چاہے اقتدار ہو یا اپوزیشن، ان کی جماعت کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ صحت کے معاملے کو سیاسی بیان بازی سے الگ رکھا جائے۔
چاہے اقتدار ہو یا اپوزیشن، ہماری جماعت کی ہمیشہ یہی پالیسی رہی ہے کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ آئین اور قانون کے مطابق ہر قیدی کو علاج معالجے اور طبی سہولیات کی فراہمی بنیادی حق ہے جو بلا تفریق فراہم کی جاتی رہی ہیں اور کی جاتی رہیں گی۔ البتہ پرائیویٹ ہسپتال کی… pic.twitter.com/hDgBt7oOAC
— PMLN (@pmln_org) August 19, 2026
انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق ہر قیدی کو علاج معالجے اور طبی سہولیات کی فراہمی بلا تفریق یقینی بنائی جاتی ہے، تاہم پرائیویٹ اسپتال کی تخصیص کے حوالے سے قانونی طریقہ کار کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ ہماری قیادت ظرف اور کردار رکھتی ہے، اور ہم نے کبھی کسی کی بیماری پر سیاست نہیں کی۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب میاں نواز شریف بیمار تھے تو ان کے خلاف جس طرح کا رویہ اپنایا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون اور اداروں پر کسی دباؤ یا دھمکی کے ذریعے اثرانداز نہیں ہوا جا سکتا، اور قانون کے مطابق ہر قیدی کو اس کا حق دیا جاتا ہے۔

