عدن / صنعا: آبنائے باب المندب اور یمن کے جنوبی ساحل کے قریب بحیرہ احمر کے انتہائی حساس اور اہم بحری راستے پر ایک تجارتی جہاز کو خوفناک حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ برطانوی بحری سلامتی اور سیکیورٹی کمپنی ’وینگارڈ‘ (Vanguard) کے مطابق اس مسلح حملے کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ چار دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
برطانوی سیکیورٹی کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ اس دلخراش واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں عملے کے 3 ارکان شامل ہیں، جن میں 2 پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ حملے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے پیچھے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کا ہاتھ ہے۔ یمنی کوسٹ گارڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد جب یمنی بحریہ اور امدادی ٹیمیں جہاز کے عملے کی مدد اور انہیں بچانے کے لیے موقع پر پہنچیں، تو حوثیوں کی جانب سے ان امدادی کارروائیوں پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک اور شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
کوسٹ گارڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید خطرات اور حملوں کے باوجود ریسکیو ٹیمیں باقی ماندہ عملے کے ارکان کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہیں، جبکہ بحری راستوں کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر شدید سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں
باب المندب میں بحری جہاز پر حملہ ، دو پاکستانیوں سمیت عملے کے 3 افراد جاں بحق

