نئی دہلی: مودی حکومت کا طلبا کے ساتھ پرینک، احتجاج ختم ہونے کے بعد طلبا کیخلاف کارروائی شروع، 2 ہزار گرفتار، کاکروچ جنتا پارٹی نے دوبارہ احتجاج کی دھمکی دیدی
بھارت میں 36 روز تک جاری رہنے والی طلبہ تحریک اگرچہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ختم ہو چکی ہے، لیکن حکومت کی طلبا کے خلاف بے رحمانہ کارروائی شروع ہوچکی ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف درج تمام فرضی ایف آئی آر فوری طور پر واپس لے، بصورت دیگر انہیں دوبارہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
سینئر ایڈوکیٹ اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے کہا کہ وہ قانونی لائحہ عمل کے لیے مسلسل کپل سبل کے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کے باوجود مظاہرین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جو کہ بڑی تحریکوں کی تاریخ کا ایک پرانا اور منفی حربہ ہے۔
سی جے پی کے رہنماؤں آشوتوش رانکا اور رتنا سنگھ نے انکشاف کیا کہ آسام، بہار اور مغربی بنگال میں پرامن احتجاج میں حصہ لینے والے بہت سے طلبہ اور افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ پولیس کی بربریت اور زیادتیوں کے خلاف شکایات درج کرانے کے لیے پارٹی نے ایک خصوصی پلیٹ فارم ’ساکشی‘ بھی لانچ کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ احتجاج اس وقت ختم کیا گیا تھا جب حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی بھی مظاہرین کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے زور دیا کہ پرامن طلبہ احتجاج میں شامل افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ طلبہ کی مالی اور قانونی مدد کو یقینی بنانے کے لیے کپل سبل نے ذاتی طور پر ایک کروڑ روپے کے عطیے سے ’قانونی دفاعی فنڈ‘ (Legal Defense Fund) قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ملک بھر کے وکلاء سے بھی اپیل کی کہ وہ طلبہ کے خلاف دائر جھوٹے مقدمات ختم کرانے میں اپنا بھرپور تعاون فراہم کریں۔
سی جے پی نے واضح کر دیا ہے کہ اگر حکومت نے اپنے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے نوجوانوں اور طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو ملک بھر میں تحریک کا دائرہ کار دوبارہ وسیع کر دیا جائے گا۔

