لاہور:مون سون کا موسم جہاں ایک طرف چلچلاتی گرمی سے نجات دلاتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ اپنے ساتھ مختلف موسمی بیماریوں بالخصوص پانی اور خوراک سے ہونے والے انفیکشنز کا خطرہ بھی لے کر آتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مرطوب موسم میں پیتھوجینز یعنی بیکٹیریا، وائرس اور فنگس کی افزائش بہت تیزی سے ہوتی ہے، جو صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
نیشنل لائبریری آف مڈیسن کی ایک رپورٹ کے مطابق، برسات کے دنوں میں ہوا میں نمی کی زیادتی اور سڑکوں پر جمع ہونے والا آلودہ پانی مائکروجنزموں کے پھیلنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کو دھونے یا ذخیرہ کرنے میں لاپرواہی برتنے سے ای کولی (E. coli) اور سالمونیلا جیسے خطرناک بیکٹیریا انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، جس سے شدید اسہال، قے، پیٹ میں درد، گیسٹرو اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
کون سی اشیاء محفوظ اور کون سی خطرناک ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام پھل اور سبزیاں خطرناک نہیں ہوتیں۔ کیلے، نارنگی، موسمبی اور انار جیسے موٹی جلد یا چھلکے والے پھل قدرتی طور پر محفوظ ہوتے ہیں کیونکہ ان کا بیرونی چھلکا جراثیم کو اندر جانے سے روکتا ہے۔ اس کے برعکس، سبز پتوں والی سبزیاں، گوبھی، پالک، ککڑی اور ٹماٹر ایسے ہوتے ہیں جن کی سطح پر نمی اور تہوں کے درمیان کیڑے اور بیکٹیریا آسانی سے جمع ہو جاتے ہیں، اس لیے انہیں استعمال کرتے ہوئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
احتیاطی تدابیر:
ماہرین صحت نے مون سون کے دوران مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا ہے:
بازار سے لائے گئے پھلوں اور سبزیوں کو صاف پانی سے چار سے پانچ بار اچھی طرح دھوئیں، اور ضرورت پڑنے پر نمک یا لیموں ملے پانی میں کچھ دیر بھگو دیں۔
سیب، کھیرے اور گاجر جیسے پھلوں اور سبزیوں کو کچا کھانے سے پہلے اچھی طرح چھیل لیں۔
سڑک کے کنارے یا بازاروں میں کھلے عام فروخت ہونے والے پہلے سے کٹے ہوئے پھلوں سے مکمل پرہیز کریں۔
مانسون کے دوران کچی یا سلاد والی سبزیوں کے بجائے انہیں اچھی طرح پکا کر یا ابال کر استعمال کریں۔
کھانے بنانے یا کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو صابن سے کم از کم 20 سیکنڈ تک اچھی طرح دھوئیں۔
بچوں، بوڑھوں، حاملہ خواتین اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد کو اس موسم میں خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آلودہ خوراک کی وجہ سے پیٹ خراب ہو جائے تو او آر ایس (ORS) کا استعمال کریں، لیکن اگر حالت دو دن سے زیادہ خراب رہے یا بخار و قے کی شدت زیادہ ہو تو خود یا گھریلو علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

