پشاور انورزیب خان
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ سے پولیو اوور سائٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی وفد نے پشاور میں ملاقات کی، وفد میں گاوی، دی ویکسین الائنس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر کرس ایلیس اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔حکومت کی فوری ترجیح صوبے میں پولیو وائرس کی منتقلی و پھیلاؤ کا مکمل خاتمہ ہے، جبکہ طویل مدتی مقصد ایسا مضبوط حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام قائم کرنا ہے جو صوبے کے ہر بچے تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے.حکومت خیبر پختونخوا نے امیونائزیشن روڈ میپ کے ذریعے مارچ 2027 تک مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 85 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ صوبے میں روٹین امیونائزیشن کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 2022 میں 55 فیصد تھی جو بڑھ کر 2026 میں 71 فیصد ہو چکی ہے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کے مراکز کی فعالیت 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ویکسینیشن کی سہولت اب صوبے کی 86 فیصد آبادی تک پہنچ رہی ہے۔صوبے نے نیشنل الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری پر کامیاب منتقلی مکمل کر لی ہے۔ اس جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہر بچے کے حفاظتی ٹیکوں کا ریکارڈ ہمہ وقت محفوظ کیا جا سکتا ہے، رہ جانے والے اور زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے۔نومبر 2026 میں انسداد سرویکل کینسر ویکسینیشن کی تیاریاں بھی مکمل کرلی گئی ہیں۔حکومت خیبر پختونخوا پولیو کے مکمل خاتمے اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ قومی مقصد کے حصول میں تعاون پر تمام ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

