اسلام آباد:ملزم نے پولیس کو چکمہ دینے کی پوری کوشش کی،ملزم وقوعہ سے فرار ہوکر غوری ٹاون پہنچا موٹرسائیکل ایک دوست کے پاس اور اسلحہ دوسرے کے پاس چھوڑا،پھر فیض آباد بس اڈے سے لاہور کی ٹکٹ کرواکر لاہور روانہ ہوا اور بھیرہ اتر کر واپس اسلام آباد آگیا کہ پولیس اسے لاہور میں ڈھونڈے گی۔پولیس اس دوران سیف سٹی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے ملزم کے دونوں دوستوں تک پہنچ چکی تھی ۔
اس کیس کے ملزم کو پکڑنے میں اسلام آباد کے ایک بائیکیا ڈرائیور نے بھی اہم کردار ادا کیا جن کی موٹرسائیکل پر ملزم اسلام آباد کے مختلف مقامات پر جاتا رہا۔
پولیس کے مطابق اس دوران کرایہ 300 روپے طے ہوا تھا لیکن فیض آباد اڈے پر اتر کر ملزم نے 250 روپے ادا کیے۔
ڈرائیور کے لیے بظاہر یہ معمول کی سواری تھی لیکن اسلام آباد پولیس کے لیے ان کی فراہم کردہ معلومات نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے مبینہ قاتل سعد عباسی تک پہنچنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
سی سی ٹی وی کیمرے میں پولیس نے بائیکیا کے مالک کو ٹریس کرنا شروع کیا۔
اس حوالے سے ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز حسین بتاتے ہیں کہ ’ہم بائیکیا والے کو بھی ٹریس کرتے رہے اور وہ جلد مل گیا۔ اس نے ہمیں پوری کہانی بتائی اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے ملزم تک پہنچنا ہمارے لیے نسبتاً آسان ہو گیا۔‘
بائیکیا ڈرائیور نے بتایا کہ ملزم ان کے ساتھ پہلے غوری ٹاؤن مارکیٹ گیا جہاں اس نے بیگ رکھا اور ایک دکان سے شرٹ خریدی۔
اس کے بعد اس نے بائیکیا والے کو سکائی ویز اڈے پر جانے کا کہا جہاں سے وہ لاہور جانا چاہتا تھا۔
جب پولیس ٹیم سکائی ویز اڈے پر گئی تو بس کے مسافروں کی فہرست سے سیٹ نمبر 24 پر سعد عباسی کا نام، شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر مل گیا۔ یہی معلومات بعد کی کارروائی میں انتہائی اہم ثابت ہوئیں۔
ان کے مطابق پولیس کو یقین تھا کہ ملزم اندھیرے میں اپنا سامان لینے واپس آئے گا۔
پولیس کے مطابق سکائی ویز سے مسافروں کی فہرست لینے کے بعد تفتیش جاری رہی جبکہ اس دوران ملزم کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کو بھی ٹریس کیا جاتا رہا۔
پولیس حکام کے بقول ’سعد عباسی نامی یہ ملزم اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہوا تاہم وہ بھیرہ کے مقام پر اترا اور کھنہ میں اپنی رہائش گاہ پہنچا۔‘
ایس پی ایاز حسین اس حوالے سے بتاتے ہیں ’اس دوران ملزم نے ایک ریڑھی والے کے موبائل سے اپنے دوست کو فون کال پر موٹرسائیکل کا بتایا اور خود اس فارمیسی پر پہنچا جہاں اس کا بیگ موجود تھا۔ ہمیں شک تھا کہ یہ اندھیرے میں کسی بھی ایک پوائنٹ پر آئے گا چنانچہ جب وہ فارمیسی اپنا بیگ لینے پہنچا تو ہماری ٹیم پہلے سے وہاں موجود تھی اور وہیں اسے گرفتار کر لیا گیا۔‘
۔ایس پی ڈاکٹر ایاز حسین بہترین پولیس آفیسر ہیں وہ لاہور تھے تو متعدد بلائنڈ کیس ٹریس کئیے،ڈی ایس پی کے ہاتھوں بیوی بیٹی کا قتل بھی انہوں نے ٹریس کرکے ملزم گرفتار کیا تھا۔
گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قاتل کیسے پکڑا گیا؟ "بائیکیا” ڈرائیور کا اہم کردار،سفاک قاتل کی گرفتاری کے اندر کی کہانی!

