لاہور:کرکٹ حلقوں میں اس تبدیلی کو ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ شائقین کرکٹ کی جانب سے اس پر مختلف اور ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی ٹیم کی قیادت میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بابر اعظم ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان ٹیم کی کپتانی کریں گے۔
Pakistan Test squads announced for West Indies and England tours
Read more ➡️ https://t.co/vjvoSPBfBP#WIvPAK | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/6O5NS9qT8p
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 5, 2026
اطلاعات کے مطابق کپتانی کے حوالے سے مختلف نام زیر غور تھے، تاہم حتمی فیصلہ بابر اعظم کے حق میں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور میں سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم سے متعلق اہم اعلانات کیے ہیں۔
سیلیکشن کمیٹی میں ابھی مصباح الحق کو 6مہینے بھی نہیں ہوئے، سرفراز کو بھی ابھی 6مہینے سے کم ہوئے ہیں۔ اسد شفیق اور میں پچھلے ڈیڑھ سال سے کمیٹی میں ہیں تو آپ سارے ریسرچ کریں اور نمبرز ملائیں تو تینوں فارمیٹس میں اور پھر بات کریں، عاقب جاوید pic.twitter.com/WcMXE9nu2w
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) July 5, 2026
انہوں نے بتایا کہ بابراعظم کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے جبکہ ناقص پرفارمنس کے باعث شان مسعود کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اسی پریس کانفرنس میں دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان بھی کیا گیا۔پاکستان کے 16 رکنی سکواڈ میں بابر اعظم کپتان، شان مسعود، امام الحق، اذان اویس، عبداللّٰہ فضل، سلمان علی آغا، غازی غوری اور محمد رضوان شامل ہیں۔
اسکواڈ میں ساجد خان، علی عثمان، عامر جمال، محمد علی، محمد عباس، عبید شاہ، اویس ظفر اور خرم شہزاد بھی شامل ہیں۔
مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل فٹنس مسائل کی وجہ سے سکواڈ کا حصہ نہیں ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا ہے کہ میں اور اسد شفیق سیلکشن کمیٹی میں 18 ماہ سے ہیں، مصباح الحق اور سرفراز احمد کو شامل ہوئے 6 ماہ ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ 3 فارمیٹ ہیں اور آپ کو دیکھنا ہوتا ہے کہ کس فارمیٹ میں آپ کی پرفارمنس کیا ہے۔
واضح رہے کہ بابر اعظم نے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی بدترین کارکردگی کے بعد پاکستان ٹیم کے تمام فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔
تاہم ڈھائی سال کے دوران شان مسعود کی بطور قیادت کارکردگی بدترین رہی اور ان کی قیادت میں 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جس میں بنگلہ دیش سے ہوم اور اوے دونوں ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کی ہزیمت بھی شامل ہے۔

