سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو)
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک میں استاد اور شاگرد کے رشتے کا تقدس متاثر ہوا ہے جبکہ تعلیمی نصاب اور تاریخ کو مختلف ادوار میں بیرونی طاقتوں کی ترجیحات کے مطابق مسخ کیا گیا جس کے باعث نئی نسل درست تاریخی شعور اور کردار سازی پر مبنی تعلیم حاصل نہ ہو سکی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک نجی تعلیمی ادارے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نصاب اپنی اصل روح سے ہٹ چکا ہے جبکہ اور زمانہ طالب علمی میں تحریک پاکستان ،مسلم،برصغیر اور عالمی تاریخ جس معیار کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی آج وہ معیار برقرار نہیں رہا ہے بعض حکمرانوں کے دور اقتدار میں حکمرانوں کی سیاسی ضروریات اور اور بعض سپر پاورز کو خوش کرنے کے لئے تاریخ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو مسخ کر رکھ دیا گیا۔ آج طلباء و طالبات کو جو حقائق پڑھائے جس رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہ ہیں جبکہ موجودہ نصاب طلباء و طالبات کی ایسی شخصیت سازی نہیں کر رہا ہے جس کی موجودہ معاشرہ اور ملک کو ضرورت ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری یا سرکاری ملازمت حاصل کرنا نہ ہے بلکہ ایسے با کردار اور ذمہ دار شہری تیار کرنا ہے جو معاشرے کے لئے رول ماڈل ثابت ہوں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی نظام اور نصاب کو قومی ضروریات اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق تشکیل دینا ہو گا تاکہ نئی نسل کو تاریخی شعور بہتر اخلاقی اقدار اور مثبت کردار کے ساتھ مستقبل کی زمہ داریاں نبھانے کے قابل بنایا جا سکے۔

